سینٹ انتخابات سٹاک ایکسچینج کو بھی لے ڈوبے

وفاقی وزیرخزانہ حفیظ شیخ کے سینٹ الیکشن ہارنے اور سیاسی عدم استحکام کے باعث سٹاک مارکیٹ کریش کرگئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز ہی پیشگوئی کی جارہی تھی کہ حکومت کو ملنے والے اس سیٹ بیک کا سٹاک مارکیٹ پر بہت برا اثر پڑیگا اور توقعات کے مطابق ایسا ہی ہوا۔آج کاروباری دن کا آغاز ہوتے ہی سٹاک مارکیٹ میں 1073 پوائنٹس کی کمی ہوئی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سٹاک مارکیٹ ریکور کرنا شروع ہوگئی،آج کاروباری دن کے آغاز پر سٹاک مارکیٹ نے کام کا آغاز 46160 پوائنٹس سے شروع کیا اور دیکھتے

ہی دیکھتے سٹاک مارکیٹ 1073 پوائنٹس کم ہوکر 45087 پر پہنچ گئی۔ جس سے سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے اور انڈیکس 46 ہزار کی سطح سے بھی نیچے آگیا۔بعدازاں سٹاک مارکیٹ ریکور کرنا شروع ہوگئی لیکن مسلسل مندی چھائی رہی۔اس وقت سٹاک مارکیٹ 45616 پر ٹریڈ کررہی ہے، دوسری جانب رواں مالی سال کے پہلے 8 مہینوں میں بینکوں کے ذریعے نجی شعبے کے قرض لینے میں 80 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو ملک میں تیز اقتصادی سرگرمیوں کی عکاسی کرتا ہے۔اعدادوشمار کے مطابق نجی شعبے نے مالی سال 2021 کے جولائی سے 19 فروری کے دوران 352 ارب روپے قرض لیا۔

یہ مالی سال 20 میں اسی مدت کے دوران 195 ارب روپے کے قرض لینے سے 80.5 فیصد زیادہ ہے۔بینکرز کے مطابق نئے مالی سال کی پہلی سہ ماہی پر بڑے پیمانے پر کورونا وائرس کے منفی اثرات سامنے آئے تھے تاہم قرض لینے کا آغاز مالی سال 2021 کی دوسری سہ ماہی سے ہوا تھا۔گزشتہ مالی سال وبائی بیماری سے بری طرح نقصان پہنچا تھا اور مالی سال 2020 کی آخری سہ ماہی میں نجی شعبے نے قرض لینا بند کردیا تھا۔یکم جولائی سے اب تک نجی شعبے کے قرضوں میں 19 فروری تک 157 ارب روپے یا 80.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔نجی شعبے کے قرضے پورے مالی سال 2020 کے دوران صرف 196 ارب 30 کروڑ روپے تھے۔کورونا وائرس کے اثرات نے نئے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اپنی گرفت برقرار رکھی تاہم کورونا وائرس کے کم کیسز نے پاکستان کو اپنی معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے کا اہل بنا دیا۔

Comments are closed.