جب دلہن کو گھر لا یا جا ئے تو ایسا کیا کر یں کہ دلہن شوہر کی دیوانی ہو جا ئے

آج کا ہمارا موضوع ہے ۔ دلہن کے گھر میں آنے کے وقت کے احکام ۔ نکاح و رخصتی کے بعد جب دلہن گھر میں آئے تو دلہن کا ہاتھ پکڑ کر یہ دعا پڑھے اور بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر یہ دعا پڑھے ترجمہ : اے اللہ میں آپ سے اس کی بھلائی اور اس کی عادتوں کی بھلائی کا سوال کر تا ہوں اور اس کی برائی اور اس کی بری عادتوں کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں دعا کی برکت یہ ہے کہ اللہ پاک اس عورت سے برائی دو ر کر دے گا اور اس کے گھر میں اس عورت کی نیکی پھیلائے گا صحبت سے فراغت کے بعد مرد عورت دونوں کو پیشاب کر لینا چاہیے نہیں تو کسی لا علاج مرض میں مبتلا ہو جا ئیں گے علم طب کی کتا بوں میں لکھا ہے۔

کہ بعض وقت منی کا کوئی قطرہ پیشاب کی نالی میں اٹکا رہ جا تا ہے تو سوزش اور زخم پیدا کر تا ہے اسی طرح ایک اور سوال آیا سوال یہ ہے کہ میں نے بزرگوں سے سنا ہے کہ اگر تین حصے کپڑوں کے نا پاک ہوں اور ایک حصہ پاک ہو تب بھی نماز قبول ہو جا تی ہے کیا یہ صحیح ہے؟ چلتے ہیں اس سوال کے جواب کی جا نب اس سوال کا جواب یہ ہے جی نہیں مسئلہ سمجھنے سمجھانے میں غلطی ہوئی ہے دراصل یہاں دو مسئلے الگ الگ ہیں ایک یہ کہ کپڑے کو نجاست لگ جا ئے تو کسی حد تک معاف ہے اس کا جواب یہ ہے کہ نجاست کی دو قسمیں ہیں غلیظہ اور خفیفہ نجاستِ غلیظہ مثلاً آدمی کا پخانہ پیشاب خ و ن ش ر ا ب اور ح ر ا م جانوروں کا پیشاب وغیرہ یہ سب صورتحال ہو تو معاف ہے۔

اور اگر گاڑھی ہو تو پانچ ماشے وزن تک معاف ہے اس سے زیادہ ہو تو نماز نہیں ہو گی جب کہ نجاستِ خفیفہ مثلاً حلال جانوروں کا پیشاب کپڑے کے چوتھائی حصے تک معاف ہے کپڑے کا وہ حصہ جس پر نجاست لگی ہو مثلاً آستین الگ شمار ہو گی دامن الگ شمار ہو گا اور معاف ہونے کا مطلب ہے کہ اسی حالت میں نماز پڑھ لی تو نماز ہو جا ئے گی دوبارہ لو ٹانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس نجاست کا دور کر نا اور کپڑے کا پاک کر نا بحر حال ضروری ہے اللہ پاک ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فر ما ئے اور اس کے مطا بق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فر ما ئے۔ جیسا کہ ہم سب ہی اس بات سے بہت ہی اچھے سے واقف ہیں کہ اسلام جو ہے بہت ہی پیارا مذہب ہے تو ہمیں اس کے مطابق زندگیاں اپنی بسر کرنی چاہییں کیونکہ اس کے مطابق زندگیاں گزارنے سے ہماری زندگیاں آسان ہو جا ئیں گی۔

Comments are closed.