روزے کی حالت میں عورت کو ح ی ض آ جا ئے تو ؟

روزے کی حالت میں اگر مغرب سے پہلے پہلے کسی بھی وقت عورت کو حیض آجائے تو اس کی وجہ سے روزہ فاسد ہوجائے گا، اور پاک ہونے کے بعد اس روزے کی قضا رکھنا لازم ہوگا، جو عورت حیض و نفاس کی حالت میں ہو، اسے کھانا پینا چاہیے، یعنی روزہ داروں کی مشابہت کی وجہ سے تنہائی میں بھی بھوکی پیاسی نہ رہے۔البتہ اس کے برعکس اگر حائضہ عورت دن کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد پاک ہوگئی تو اب دن کے بقیہ حصہ میں کھانے پینے سے رُکا رہنا چاہیے۔

التِ حیض و نفاس میں عورت روزہ نہیں رکھے گی اور حیض و نفاس کی مدت ختم ہو جانے کے بعد اس پر ان دنوں کے روزوں کی قضاء واجب ہے جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں حالتِ حیض سے پاک ہونے پر روزوں کا حکم فرماتے۔روزہ کی حالت میں حیض شروع ہوجانے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے، ایسی عورت کے لیے کھانا پینا جائز ہے، البتہ اس کو چاہیے کہ دوسروں کے سامنے نہ کھائے، واضح رہے۔

کہ اگر رمضان میں دن میں عورت پاک ہوئی تو دن کا باقی حصہ روزہ داروں کی طرح رہنا واجب ہے، اگر دن کے اخیر وقت میں حیض آجائے تو بھی یہی حکم ہے۔روزہ کی حالت میں ماہواری شروع ہوجانے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے، اگرچہ غروب آفتاب سے چند لمحہ قبل ہی ماہواری کا خون آنا شروع ہوا۔ اس کی قضاء واجب ہوگی۔ روزہ فاسد ہونے کے بعد عورت کے لیے کھانا پینا جائز ہے، البتہ رمضان المبارک کے احترام میں کھلے عام کھانے پینے سے اجتناب کیا جائے گا۔اگر حیض مغرب سے قبل آئے تو روزہ باطل ہوگا اور اس کی قضاء ہوگي لیکن اگر مغرب کے بعد حیض آنے کی صورت میں روزہ صحیح اور مکمل ہے، اس قضاء نہيں ہے۔

Comments are closed.