روزے کے دوران اگر عورت کو ح ی ض یعنی ( ماہورای) آ جا ئے کیا روزہ ٹوٹ جا ئے گا یا پھر مکمل کیا جا ئے گا؟

روزہ کی حالت میں ح ی ض شروع ہوجانے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے، ایسی عورت کے لیے کھانا پینا جائز ہے، البتہ اس کو چاہیے کہ دوسروں کے سامنے نہ کھائے، واضح رہے کہ اگر رمضان میں دن میں عورت پاک ہوئی تو دن کا باقی حصہ روزہ داروں کی طرح رہنا واجب ہے، اگر دن کے اخیر وقت میں ح ی ض آجائے تو بھی یہی حکم ہے روزہ کی حالت میں ماہواری شروع ہوجانے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے، اگرچہ غروب آفتاب سے چند لمحہ قبل ہی ماہواری کا خ و ن آنا شروع ہوا۔ اس کی قضاء واجب ہوگی۔

روزہ فاسد ہونے کے بعد عورت کے لیے کھانا پینا جائز ہے، البتہ رمضان المبارک کے احترام میں کھلے عام کھانے پینے سے اجتناب کیا جائے گا۔اگر ح ی ض مغرب سے قبل آئے تو روزہ باطل ہوگا اور اس کی قضاء ہوگی لیکن اگر مغرب کے بعد ح ی ض آنے کی صورت میں روزہ صحیح اور مکمل ہے، اس قضاء نہيں ہے روزہ ٹوٹ جا تا ہےیا ہو جا تا ہے یا روزہ مکمل ہو گیا ۔ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے تو یاد رکھیں سورج غروب ہونے سے مغرب اسی کو کہتے ہیں نا کہ سورج غروب ہونے سے پہلے چاہے وہ پانچ منٹ پہلے کیوں نہ ہوں اگر عورت کو ح ی ض آ جا ئے گا ایام آ جا ئیں گے تو اس کا روزہ چلا گیا۔

اس کا روزہ ٹوٹ گیا اب وہ رمضان المبارک کے روزوں میں کاؤنٹ نہیں ہو گا اور بعد رمضان کیا کر نا ہو گا یعنی قضا ء کرنا ہو گی وہ روزہ نہیں ہو ا اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اب روزہ نہیں ہو اتو پورا دن ہم نے کیا کیا پورا دن آپ جو بھوکے پیاسے رہے اس کا کیا ؟ تو اللہ رب العزت آپ کو اس کا اجر دیں گے آپ کا اس کا ثواب دیں گے نیت اچھی تھی بات اصل نیت کی ہے آپ کے روزے کی نیت تھی لیکن چونکہ ح ی ض آ گیا آپ کو ایام آ گیا تو آپ کا روزہ سمجھ گیا اب رمضان کے بعد آپ کو قضا کرنی ہو گی ۔

سورج غروب ہونے سے دس منٹ پہلے اگر آپ کو ح ی ض آ جا ئے گا تو آپ کو اس روزے کی قضاء لازم کر نی ہو گی۔ اور روزہ آپ کا رمضان المبارک کے روزوں میں کا ؤنٹ نہیں ہو گا۔ روزہ رکھنے کے لیے نیت کے ساتھ ساتھ جسم بھی پاک ہو نا چاہیے تو ہمیں ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر دھیان دینا چاہیے تا کہ ہمیں کل کو کسی بھی قسم کی کوئی بھی مشکل نہ ہو۔ اللہ ہمیں دین کے مطا بق زندگی گزارنے کا سلیقہ عطا فر ما ئیں۔ آ مین۔ اور ہمیں ان چھوٹی چھوٹی نزاکتوں کے بارے میں سوچنے کی توفیق عطا فر ما ئیں۔

Comments are closed.