وہ غلطیاں جن سے بیوی ح رام ہو جا تی ہے۔

اس تحریر میں ان گناہوں کے بارے میں بتایاجائے گا کہ جن گناہوں کے ارتکاب کرنے سے نکاح کا بندھن ازخود ٹوٹاجاتا ہے اور آپ کی بیوی آپ کے لئے حرام ہوجاتی ہے اس لئے ان گناہوں کے بارے میں ہر کسی کو علم بھی ہونا چاہئے اور ان گناہوں سے اپنے آپ کو دور بھی رکھنا چاہئے ۔کلمہ پڑھنے کے ساتھ ہی ہر مسلمان اسلامی احکام کا اور اسلامی شریعت کا پابند ہوجاتا ہے اور اس کے لئے لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی شریعت کے تابع کرے شریعت میں جن احکام کو کرنے کا حکم ہے ان کی پابندی کرے اور شریعت میں جن کاموں کی ممانعت ہے منع کیا گیا ہے ان کاموں سے اپنے آپ کو دور رکھے کیونکہ اللہ نے اپنے بندوں کے لئے حدود قائم کر رکھی ہیں اور ان کی پابندی کا حکم دیا ہوا ہے ۔قرآنی تعلیمات مسلمان کو یہ بتاتی ہیں۔

کہ اس نے کیسے زندگی بسر کرنی ہے کس رشتے کے ساتھ کیا سلوک کر ناہے اور کیاسلوک نہیں کرنا قرآن نے ہر رشتے کے اپنے اپنے حقوق مختص کر دیئے ہیں اور ان کی حدود بھی بتادی ہیں۔اگر ان رشتوں میں ذرا برابر بھی بے احتیاطی کی جائے گی تو بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی یعنی ایسا ہونے سے میں بیوی کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اس میں سب سے پہلی بات مذہب کے حوالے سے ہے کہ اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک فریق نعوذ باللہ دین اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا اختیار کر لے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور میاں بیوی کا رشتہ ختم ہوجاتا ہے اگر اس کے بعد وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے تو یہ حرام ہوگا

اسی طرح سے رشتوں کے حوالے سے جب بیٹا سات سال سے اوپر کا ہوجائے تو اس کو چاہئے کہ وہ ماں کے ساتھ نہ سوئے اور اسی طرح بیٹی جب سات سال سے اوپر کی ہوجائے تو وہ اپنے باپ کے ساتھ ہر گز نہ سوئے یہ شرعی حکم ہے اس لئے اس کی پابندی بہت ضروری ہے شریعت نے یہ احکام اس لئے نافذ کئے ہیں کہ اگر ان ا حکامات کی پاس داری نہ کی گئی۔تو ان کا نتیجہ بڑا خطر ناک ہے اسی طرح سے جب بیٹی نو سال کی ہو جائے تو باپ کو چاہئے کہ اسے پیار کرنے میں احتیاط کرے باپ کو چاہئے کہ اگر وہ پیاکرنا بھی چاہئے تو صرف بیٹی کے سر پر ہاتھ پھیرے بوسہ لینا ہوتو بھی سر پر بوسہ لے اسی طرح سے باپ کو چاہئے کہ اپنے جسم کو بیٹی کے جسم سے دور رکھے کیونکہ اگر خدانخواسہ یہ احتیاط نہ برتی گئی اور کہیں باپ نے بیٹی کو ایسے پیا ر کر لیا

کہ باپ کی شہوت یا بیٹی کی شہوت ابھر گئی تو ایسی صورت میں اس شخص کے لئے اپنی بیوی یعنی اس کی بیٹی کی ماں ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا اور یہی حکم ماں اور بیٹے کا بھی ہے اس لئے ہماری اپنی بہنوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بیٹوں سے پیار کرنے میں احتیاط برتیں احکام شریعت کے مطابق ان کو اپنے بستر سے اور اسی طرح سے بہنوں کے بستر سے دور کریں آج کل دین سے دوری اور اسلامی تعلیمات کو نہ سیکھنے کی وجہ سے پہلے لاڈ پیار میں بچوں کو بگاڑا جاتا ہے ان کو ان کی حدود نہیں بتائی جاتی اور پھر بعد میں رونا رویا جاتا ہے۔

Comments are closed.