اچھے لوگوں کی سنگت میں رہا کرو  کیونکہ سنا رکا کچڑا بھی بادام سے مہنگا ہوتا ہے؟

کسی کے راستے میں مشکلات پیدا کرنےسے پہلے سوچ لیں کہ آپ اس کی تو صرف دنیا خراب لیکن اپنی آخر تباہ کررہے ہیں۔ جانور ذبح کرنا سنت ابراہیمی  ہے ۔ اور نفرتوں کو ذبح کرنا سنت رسول اللہﷺ  ہے۔ کسی بھی حالت میں اپنا حوصلہ مت چھوڑو کیونکہ لوگ گرے ہوئے مکان کی اینٹیں بھی اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ موڈ ہو جیسا ویسا منظر ہوتا ہے۔ موسم توانسان کے اندر ہوتا ہے۔ جو لوگ بچھڑ جانے کا غم جانتے ہوں وہ ساتھ بیٹھے پرندوں کو بھی اڑایا نہیں کرتے۔ لوگوں کی نظر میں خاموشی انا ہے۔

اللہ کی نظر میں خاموشی صبر ہے۔ شکر اداکرنے کی وجہ نہیں ڈھونڈنی چاہیے۔ بلکہ عادت ڈال لینی چاہیے۔ کیونکہ شکر گزار بندوں سے اللہ بڑی محبت کرتا ہے۔ اگر خوش رہنا چاہتے ہوتو دوسروں کی خوشی دیکھ کر حسد نہ کرو ۔ کوئی بھی فیصلہ لینےسے پہلے سو بار سوچ لینا لیکن جب فیصلہ لے لو پھر اس پرڈٹ جانا۔ اچھے لوگوں کی سنگت میں رہا کرو سنار کا کچڑا بھی بادام سے مہنگا ہوتا ہے۔ میرے آنکھوں میں آنسوؤں آگئے۔ جب خدا نے مجھ سے پوچھا ” الست بربکم ” کیا میں تمہارا رب نہیں میں نے کہا ” بلا” بے شک آپ  ہی ہیں۔

اس پر خدا نے بڑے لاڈ سے کہا ” فابن تذھبون” تو پھر کدھرجارہے ہو مجھے چھوڑ کر اپنی زندگی میں دینا شروع کردیں۔ کسی کو راستہ ، کسی کو علم ، کسی کو وقت، کسی کو مشورہ اور کسی ضرورت مند کو اس  کی ضرورت کےمطابق کچھ پیسے دے دیں۔ غیرضروری خواہشات او ر دباؤ  سے دور رہیں ۔ یا درکھیں ! کہ دینے کی خصوصیت تو صرف اللہ کریم کی ہے۔ جب آپ دینا شروع کردیتے ہیں۔ توآپ کی نسبت رب کریم سے جڑجاتی ہے۔ پھر آپ پریشانی اور ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتے جتنا زیادہ آپ دینے والے بنیں گے اتنی زیادہ آپ کی زندگی میں خوشیاں آنا شروع ہوجائیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *