حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے فرمایا

صربت مولا امام علی کے بعد طبیب کو بلایا گیا طبیب نے زخم  دیکھنے کے بعد کہا جتنا ہوسکے ۔ امام علی کو دودھ پلا یا جائے تاریخ میں ہے جب یہ خبر کوفے میں پھیلی تو ہر بچے کے ہاتھ میں دودھ کا پیالہ تھا جو امام علی کو پکار رہے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے فرمایا: دنیا داروں کی صحبت سے پرہیز کرو ۔ کیونکہ اگر تنگ دست ہوگا تو تجھے حقیر سمجھیں گے اور اگر زیادہ مال دار ہوگا تو تجھ سے حسد کریں گے ۔ جو آدمی اللہ تعالیٰ کےسامنے اپنی عاجزی ظاہر کرتا ہے تو دنیا داروں کی اونچی گردنیں اس کےسامنے ذلیل اور پشت ہوجاتی ہیں۔ ہمیشہ ایسے شخص کو چنا کر و جو آپ کو عزت دے کیونکہ عزت محبت سے کئی زیادہ خاص ہوتی ہے۔ قریبی رشتہ داروں کی عداوت بچھ وؤں کے ڈسنے سے زیادہ درد پہنچاتی ہے۔

دنیا سے اتنا تو شہ اور سامان تیار کر لو کہ کل قیامت کے دن اپنی جان کو بچا سکو۔ اگر تیر ا غلام اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے تو اسے س زا دے اور اگر تیرا حکم نہ مانے تو اس سے درگزر کر۔ جو آدمی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ  میں عزت پالیتا ہے۔ اسے کوئی غالب سے غالب بھی ذلیل ورسواء نہیں کرسکتا۔ ہر اس دوست پر بھروسہ کرو ۔ جو مشکل میں تمہارے کام آیا ہو۔ ایک دن امیر المومنین حضرت علی مسجد کے دروازے پر اپنے خچر سے اترے تو آپ نے اپنا خچر حفاظت کے خیال سے ایک شخص کے حوالے کیا  ۔ اور مسجد میں تشریف لے گئے۔ آپ کے جانے کے بعد اس شخص کے دل میں خیانت آگئی اور اس نے آپ کے خچر کی لگا م نکالی اور فرار ہوگیا۔ حضرت علی نماز سے فارغ ہو کر جب مسجد سے باہر تشریف لائے توآپ کے ہاتھ میں دو درہم تھے ۔

یہ دو درہم آپ خچر کی نگہبانی کرنےوالے شخص کو بطور معاوضہ دینا چاہتے تھے۔ لیکن آپ نے دیکھا کہ خچر بغیر لگام کے خالی کھڑا ہے۔ بہرحال آپ بغیر لگا م  کے خچر پر سوا ر ہو کر گھر پہنچے اور اپنے غلام کو دو درہم دیے کہ وہ بازار سے دوسری لگام خرید لائے۔ غلام بازار گیا اس نے وہی لگام ایک شخص کےہاتھ میں دیکھی پوچھنے پر معلوم ہو ا کہا ایک شخص پر لگام دو درہم میں بیچ گیا ہے۔ غلام نے اس شخص ے دو درہم میں لگا م لے لی اور واپس آگیا۔ اورآپ کو ساری بات بتائی توآپ نے فرمایا: بندہ بعض اوقات خود صبر نہ کرنے اور عجلت سے کام لینے کی وجہ سے رزق حلال کو اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے۔ حالانکہ جو کچھ رب العزت نے اس کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔ اس  سے زیادہ اسے نہیں ملتا۔

Comments are closed.