جو زیادہ مذاق کرتا ہے؟

حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے فرمایا: جنت ایسے لوگوں کا ٹھکانہ ہے ۔ جو مومن اور محسن ہیں۔ بدبخت ہے وہ شخص جو کمینے گن اہوں کے عوض جنت کو فروخت کردے۔ نفس کے ساتھ جہاد کرنا جنت کا حق مہر اور نفسانی خواہشات کے مخالف جہاد جنت کی قیمت ہے۔ عمدہ اخلاق سے جنت ملتی ہے۔ اور صبر سے تکلیف کم ہوجاتی ہے۔ زیادہ مذاق کرنےسے آدمی کی عزت چلی جاتی ہے۔ اور لوگوں سے دشمنی پیدا ہوجاتی ہے عقل کی زیادتی نجات دیتی ہے۔ اور جہالت کی زیادتی ہ لاک کرتی ہے۔ علم نفس کو زندہ رکھتا ہے۔ اور عقل میں اضافہ کرکے جہالت کو مارتا ہے۔ کافروں سے دوستی نہ رکھو اور جاہلوں کی صحبت میں بیٹھنےسے گریز کرو۔ جہالت سے پاؤں پھسلتا ہے۔ اور ظلم سے نعمتیں دور ہوجاتی  ہیں۔ علم نجات بخشتا ہے۔ اور جہالت ہلاکت میں مبتلا کرتی ہے۔

ہر آدمی کی رائے اس کےذاتی تجربے کے مطابق ہوتی ہے۔ تنگدستی نفس کے لیے ذلت کاباعث ہے۔ جس کانفس حریص ہے وہ دولتمند ہونے کے باوجود تنگدست ہے۔ ڈر ناکامی سے ملا ہوا ہے۔ برے انسان کی صحبت سے پرہیز کرو۔ کیونکہ وہ تلوار کی طرح ہے  دیکھنے میں خوبصورت اور اثر میں خطرناک ہے۔ بہت سے لوگ اس وجہ سے فتنہ میں مبتلا ہوجاتےہیں۔  کہ ان کے بارے میں اچھے خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ جب گن اہوں کےباوجود اللہ تعالیٰ کی نعمتیں  مسلسل تجھے ملتی رہیں ، تو ہوشیار ہوجانا، کہ تیرا حساب قریب اور سخت ترین ہے۔ جب جسموں پرخواہشات کی حکمرانی ہوتی ہے۔ وہ گن اہوں کی قید سے کبھی آزاد نہیں ہوسکتے۔ عبادت ایسی کرو جس سے روح کو مزہ آئے، کیونکہ جو عبادت دنیا میں مزہ نہ دے۔ وہ آخرت میں کیاجزادے گی۔

کسی نے آپ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کہ سب سے بڑھ کر  بے عیب کون ہے؟ توآپ نے فرمایا: جس نے عقل کو اپنا امیر ، صبرکو اپنا قائد، تقویٰ کو اپنا نگہبان ، خوف خدا کو اپنا ساتھی اور م و ت ومصیبت کو اپنا دوست بنایا۔ آپ کا رنگ نماز کا وقت ہوتے ہی پیلا پڑجاتا ہے اور کانپنے لگتا ہے ایسی  حالت میں جب آپ سے سبب پوچھا جاتا تو فرماتے اس امانت کاوقت آن پہنچا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *