ذو الحجہ ختم ہونےسے پہلے کریں 

ذی الحجہ کا ماہ مقدس جو کہ عالم اسلام کے ہاں بہت مقدس اور عزت کے قابل سمجھاجاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اس کا بہت بڑا مقام ہے  ۔ اللہ تعالیٰ اس مہینے میں اس ماہ مبارک میں انسانیت کو خاص طور پر نوازنا چاہتےہیں۔ تو اسی لیے اس ماہ مقدس کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایکدن  رکھا ہے۔ جسے عرفہ کا دن کہتے ہیں۔ اور ذی الحجہ کی دس راتوں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم  میں قسم کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ اب ان دس راتوں کو انسان غافل ہوکر گزار لےتو پورا سال انسان غفلت کا شکاررہتا ہے ۔ ان دس راتوں کا وقت آپ قیمتی بنائیں ۔ ان دس راتوں کا خاص عمل جوآپ کو بتانا مقصود ہے ۔ اگر آپ یہ عمل ان دس راتوں کے اندر کرلیتے ہیں۔ انشاءاللہ! آپ کو دو فیوض عطافرمائےگا۔ ایک فیض یہ کہ اللہ آپ کو وافر مقدار میں ہر سال رزق عطافرمائےگا۔

دوسرا اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے اپنا قرب، اطاعت الہیٰ اور عبادت کا شوق زیادہ عطافرمائےگا۔ چونکہ انسان کے اندر ان دو چیزوں کی طلب ہوتی ہے کہ زیادہ رزق مل جائے۔ دولت مل جائے ۔ میری ضروریا ت زندگی پوری ہوجائیں اور ساتھ یہ ہوتا ہے کہ مجھے اللہ پا ک اپنی اطاعت کی توفیق  دے ۔ انسان کی کو شش ہوتی ہے۔ کہ اطاعت کروں۔ لیکن بعض اوقات  ایسا ماحول بنتا ہے کہ انسان سے نافرمانی ہوتی ہے۔ اس سے خطائیں ہوجاتی ہیں۔ گن اہ ہوجاتا ہے۔ اب یہ دس راتیں قیمتی راتیں ہیں۔ ان میں اللہ کی اطاعت کرنا، ان میں اس وظیفہ کو جو قرآنی وظیفہ ہے۔ آپ نے اس کو خاص حصہ بنانا ہے۔ اور اس پر عمل کرنا ہے۔ یہ انسان کی زندگی کو پلٹ دیتا ہے۔ اللہ کے تین نام ہیں ۔ جو بہت جلالت والے ہیں۔ جو کہ قرآن کریم میں مختلف مقامات پرآئیں ہیں۔

ان ناموں کو اللہ نے بہت جلالت عطافرمائی ہے۔ اگر ان تین ناموں کو اگر انسان اپنا وظیفہ بنالے ۔تو انسان کی زندگی پرسکون ہوجائےگی۔ انسان کی زندگی میں ہرنعمت آجائےگی۔ وہ تین نام کونسے ہیں؟ پہلا ہے ” یا حنان” پھر ہے ” یا منان” اور پھر ہے ” یا ذالجلال والاکرام ” ۔ اب دیکھیں کہ اللہ نے ” یاحنان ” اور ” یامنان” ان دوناموں میں اتنی تاثیر رکھی ہے کہ جب جہنم کے اندر جہنمی ہوگا۔ اور وہ مسلمان ہوگا۔ جو شخص ایمان کی حالت میں دنیا سے گیا ہے ۔ تو جب وہ پکارے گا۔ اللہ کو ” یا حنان ، یامنان ” اس طرح کہہ کر پکارے گا۔ جب اس کو اذیت ہوگی۔ او ر کبھی جب حد درجہ  اذیت ملے گی۔ پریشانی حد درجہ ملے گی۔ تکلیف ملے گی ۔ یہاں تک کہ دوزخ کے اندر جل رہا ہوگا۔ تووہ اللہ تعالیٰ کو پکارے گا۔ ” یاحنان، یامنان” ۔

اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہیں گے کہ ہے کوئی دنیا میں جو مومن تھا۔ خطاکار تھا۔ اب پکڑ میں آگیا ہے۔ تو دوزخ سے اس کو نکالو۔ اب فرشتو سے کہے گا جتنے بھی “یاحنان ، یامنان” کہنے والے ہیں۔ ان کو دوزخ سے نکالو۔ اور ان کو جنت میں لے جاؤ۔ تو وہ فرشتہ ان کو دوزخ سے نکالے گا۔ کیونکہ ” یا حنان ، یامنان” یہ لفظ مومن کی زبان سے ہی جاری ہوتا ہے کافر کی زبان پر جاری نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس کی پکار پر اس کو فوراً دوزخ سے باہر نکال دیں گے۔پھر اللہ اس کو فرشتوں کے ذریعے نہلوائیں گے ۔ جنت کے نہر کے ذریعے نہلو ائیں گے۔ اب یہ جنتی جنت میں چلا جائےگا۔ حضور اکرم ﷺ کے سامنے ایک آدمی آیا اس نے ہاتھ اٹھائے نماز پڑھنے کے بعد  اور ” یا ذ الجلال والا کرام ” پڑھ کر دعا شروع کی۔

توآپ ﷺ نے فرمایاکہ : اب اس کو وہ ملےگا جو اس نے مانگا ہے ۔ یہ اللہ کا وہ نام ہے۔ جو اسم اعظم کہلاتا ہے۔ ا ب  اس میں یہ دونوں وظیفے جمع کردیے جائیں ۔ جو کہ دونوں حدیث کے وظیفے ہیں۔ جب ان کو جمع کرکے جب انسان پڑھتا ہے ۔بالخصو ص  ذی الحجہ کے ماہ مقدس میں اگر آپ ذوالحجہ کے شروع ہونےسے پہلے دو دن پہلے شروع کردیں۔ آپ کوشش کریں کہ اکیس دن لگاتار پڑھیں۔ چاند رات کو پڑھیں۔ اور لگاتار اس کو پڑھتے جائیں ۔ یہاں تک  کہ بڑی عید بھی درمیان میں آئے۔ اکیس دن لگاتار پڑھیں۔ روزانہ تین سو مرتبہ ” یاحنان ، یامنان” اور “یا ذوالجلال والاکرام ” پڑھنا ہے۔ ا س طرح آپ نے تین سو مرتبہ پڑھنا ہے۔ آپ دیکھیں کہ اس کے الفا ظ کتنے آسان ہیں۔ اور اس کی تاثیر اتنی بڑی ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں ہے ۔ اگر ہم ا سکو بھی نہ کریں۔ تو ہماری زندگی میں خوشحالی کیسے آئے گی۔

Comments are closed.