قوم داؤد کے امتی بندر کیوں بنے؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کس نبی ؑ کی قوم تھی کہ جس کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بندر اور خنزیر بنا دیا تھا اور اس کے پیچھے کیا وجہ تھی۔اس تحریر میں اسی بارے میں بتار ہے ہیں یاد رہے کہ یہ قوم حضرت داؤد ؑ کی قوم تھی اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کو نبوت اور رسالت کے ساتھ حکومت بھی عطافرمائی تھی آپؑ فن خطابت کے ماہر تھے جب کہ آواز بھی خوبصورت پائی جاتی تھی لہٰذا آپؑ نے درس و تبلیغ اور وعظ و نصیحت کے ذریعے بنی اسرائیل میں جذبہ جہاد ابھارا اور انہیں کفار و مشرکین کے ساتھ جنگ پر آمادہ کیا جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے اور ہم نے اس داؤد ؑ کی حکومت کو مضبوط کیا۔

اور انہیں حکمت نبوت اور فیصلے کی قوت عطافرمائی روایات کے مطابق حضرت داؤدؑ نے بہت تھوڑے عرصے میں فلسطین عراق شام دمشق شرق اردن اور خلیج عقبہ سے لے کر فرات تک جزیرۃ العرب کے بیشتر علاقے ان کی زیر نگیں آچکے تھے ۔یادرہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں پچھلی قوموں کے واقعات کو اس امت کے لئے کھول کھول کر بیان فرمایا ہے اور یہ واقعات اللہ نے اس لئے نہیں بیان فرمائے کہ یہ ہمارے لئے قصے کہانیاں ہیں بلکہ اس لئے بیان فرمائے کہ ہم ان قوموں کے واقعات سے عبرت پکڑیں کہ جب کوئی قوم اللہ کی نافرمانی اور سرکشی کرتی ہے تو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کیا معاملہ فرماتے ہیں ۔

جہاں تک بات ہے حضرت داؤدؑ کی قوم کی تو قرآن پاک میں اس حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں اور تم ان لوگوں کو خوب جانتے ہو جو تم میں سے ہفتے کے دن مچھلی کا شکارکرنے میں حد سے تجاوز کرگئے تھے تو ہم نے ان سے کہا ذلیل و خوار بندر ہوجاؤ یادرہے کہ مفسرین کے مطابق صورتیں مسخ ہونے کا یہ واقعہ حضرت داؤد ؑ کے زمانے میں پیش آیا بنی اسرائیل کے لئے ہفتے کا دن صرف عبادت کے لئے مخصوص تھا اور اس دن مچھلی کے شکار سمیت ہر دنیوی کام ممنوع تھا لیکن سمندر کے کنارے آباد مچھلی کے شوقین ان لوگوں نے حکم کی نافرمانی کی جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی شکلوں کو مسخ کردیا اور پھر تین دن بعد وہ سب لوگ مرگئے یہ ان کے لئے اللہ کی جانب سے آزمائش تھی۔

کہ ہفتے کے علاوہ باقی دنوں میں مچھلیاں سمندر کے اندر چلی جاتیں اور ہفتے کے دن مچھلیاں سمندر کے کناروں پر آجاتی تھیں اور یہ لوگ اس آزمائش پر پورا نہ اتر سکے انہوں نے مچھلیاں پکڑنے کے لئے مختلف ہربے استعمال کئے اور یوں ہفتے کے دن شکار کرنے سے باز نہ آئے تو پھر اللہ نے عذاب نازل فرمایا اور ان کے چہرے مسخ کردیئے گئے تفسیر قرطبی میں ہے کہ یہود نے شروع میں تو حیلے بہانے کر کے مچھلیاں پکڑی پھر عام طور پر شکار کھیلنے لگے تو ان میں دو جماعتیں ہوگئیں ایک جماعت میں علماء و صلحاء تھے جو انہیں اس کام سے روکتے جب کہ دوسری جماعت نافرمان افراد پر مشتمل تھی پھر بستی کے بھی دو حصے کر لئے گئے اور ان کے باہمی تعلقات منقطع ہوگئے ایک روز محسوس ہوا کہ جس حصے میں نافرمان رہتے ہیں وہاں بالکل سناٹا ہے جب وہاں جاکر دیکھا گیا تو وہاں رہنے والوں کی صورتیں مسخ ہوچکی تھیں ۔تو یہ وجہ تھیں ان کی صورتوں کے مسخ ہونے کی۔اللہ ہمیں نافرمانی سے بچائے اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Comments are closed.