وگ لگا کرغسل وضو ہوگا نہیں ؟

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، کے غلام حمران بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کےلیے پانی منگوایا اوروضو کیاتو دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا، پھر کلی کی اور (ناک میں پانی ڈال کر ) ناک جھاڑی ، پھر تین بار چہر ہ دھویا، پھر تین بار دایا ں بازو کہنیوں تک دھویا، پھر اسی طرح بایاں دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر تین بار اپنا دایاں پاؤں ٹخنوں تک دھویا۔

پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا، پھر کہا:میں نے رسول کریم ﷺ کودیکھا تھا کہ آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے اب کیا ہے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا ، پھر اٹھ کر دو رکعتیں ادا کیں، ان دونوں کے دوران میں اپنے آپ سے باتیں نہ کیں(دنیا کے خیال ناآئیں) ، اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جائیں گ۔ ابن شہاب نے کہا :ہمارے علماء (تابعین) کہا کرتے تھے کہ یہ کامل ترین وضو ہے جو کوئی انسان نماز کےلیے کرتاہے۔ اگرکوئی شخص ویگ لگائے کیا اس کا وضو اور غسل ہوگا کہ نہیں ؟ تو کیا وہ نماز ی ہوگا یا نہیں؟مصنوعی حوالے سے بہت اہم مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔

کیونکہ کافی مرد حضرات ایسے ہیں کہ جن کے بال جھڑ جاتے ہیں۔ تو وہ مصنو عی بال لگواتے ہیں۔ اور کافی خواتین ایسی ہوتی ہیں۔ کہ جن کے بال جھڑ جاتے ہیں تو وہ مصنوعی بال لگواتے ہیں۔ اگر کسی شخص نے مصنوعی بال لگوائے ہیں کیا اس سے غسل اور وضو ہوجائے گا۔ کیا شریعت میں آیا یہ جائز ہے یا نہیں ۔ دیکھیں اگر وہ مصنوعی بال کسی انسان کے ہیں۔ تب شریعت میں بال لگوانا جائز نہیں ہے حرام ہے۔ لیکن اگر وہ بال انسان کے نہیں ہیں تو وہ لگوانا جائز ہیں شریعت میں اس چیز کی گنجائش ہے ۔اگر رہا مسئلہ غسل یا وضو کا۔ دیکھیں وہ بال ایسے ہیں جو مصنوعی بال لگوائے ہیں۔ وہ باآسانی اتر سکتے ہیں۔ اگر ان کو اتارنا چاہے تو اتر سکتے ہیں۔

تو اس شخص کےلیے حکم یہ ہے کہ جب وہ وضو کرے یا غسل کرے۔ توان بالوں کو اتارکر وضو یا غسل کرے۔ اگر وہ نہیں اتارے گا تو اس کا وضو اور غسل نہیں ہوگا۔ اگر وہ اتنی مضبوطی کے ساتھ لگے ہوئے ہیں یا چپکے ہوئے ہیں۔ بعض بال ایسے ہوتے ہیں کہ وہ چپکے ہوتے ہیں۔ اگر وہ بال چپکے ہوئے ہیں اور باآسانی نہیں اتر سکتے ۔ تو ایسے شخص کےلیے حکم یہ ہے کہ وہ بغیر اتارے اگر غسل اور وضو کرے گا۔ اس کا وضو بھی ہوجائے گا۔ اور وضو کے دوران جو مسح کیا جاتا ہے ان بالوں پر مسح کرے گا تو ان بالوں پر بھی وضو ہو جائےگا۔ یوں سمجھ لیں کہ باآسانی اتر سکتے ہیں۔ اتارنا ضروری ہے بغیر اتارے وضو اور غسل جائز نہیں ہوگالیکن باآسانی نہیں اتار سکتے اور چپکے ہوئے با ل ہیں۔ تو پھر ان کو اتارنا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ بغیر اتارے وضو اور غسل کریں گے تو غسل بھی ہوجائے گا۔ اور وضو بھی ہوجائے گا۔

Comments are closed.