”مجھے جب دولت کی ضرورت ہوتی ہے“

ناظرین یہ بات زندگی میں ہمیشہ یاد رکھیں دعا ہمیشہ اس وقت قبول ہوتی جب انسان حلال رزق کماتا ا ور حلال رزق کھاتا ہے ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی دعائیں بھی قبول ہوں کہ یہ ایک چھوٹی سی سبق آموز بات سن لیں کہ حضرت ابراہیم بن عدم فرماتے ہیں میں نے بہت سے مشائخ سے پوچھا کہ میں رزق حلال کہاں سے اور کس طرح حاصل کروں تو مشائخ نے فرمایا کہ اگر رزق حلال کے طالب ہو تو شام چلے جاؤتو تمہیں رزق حلال کمانے کے بہت سے موقعے مل جائیں گے ۔لہذا میں شام میں رزق حلال کے غرض سے سفر شروع کردیا اور اس کے ایک شہر میں پہنچ گیا وہاں میں کافی دن رہا اور لوگوں سے معلوم کرتا رہا کہ میں کونسا کام کروں

جس سے مجھے رزق حلال حاصل ہوجائے لیکن کوئی بھی میری صحیح رہنمائی نہیں کرسکتا تھا آخر کار کیا ہوا میں نے وہاں کے ایک مشائخ کی خدمت میں اپنا مسئلہ پیش کیا ۔ تو انہوں نے بتایا کہ تم اگر رزق حلال کے طالب ہو تو تم وہاں کے شہر ترسوس میں چلے جاؤ وہاں تمہیں رزق حلال میسر ہوجائے گا چنانچہ میں ترسوس میں پہنچ گیا میں وہاں رزق حلال کی تلاش میں گھومتا پھرتا رہا ایک دن میں سمندر کے ساحل پر پہنچ گیا تو ایک شخص وہاں میرے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے اپنے انگوروں کے باغ کیلئے دیکھ بھال کرنے والے انسان کی ضرورت ہے کیا تم اجرت پر میرے باغ کی حفاظت کرسکتے ہیںوہ مجھے اپنے باغ میں لے گیا

جہاں میں نے خوب محنت اور لگن سے کام کیا مجھے اس باغ میں کام کرتے ہوئے کافی دن گزر گیا ایک باغ کا مالک اپنے چند دوستوں کیساتھ باغ میں آیا اور مجھے کہنے لگا کہ ہمارے لیے بہترین قسم میٹھے انگور تو توڑ کر لاؤ مالک کے حکم کی تکمیل کرتے ہوئے میں ٹوکری اُٹھائی اور ایک بیل سے انگور توڑ کر ان کے سامنے رکھ دیا ۔جب باغ کے مالک نے انگور کا ایک دانہ کھایا تو وہ انگور کھٹا نکلا اس نے مجھے سے کہا کہ تم پر افسوس ہے۔ تمہیں حیا نہیں آتی کہ تم اتنے دنوں اس باغ میں کام کررہے ہیں کہ ابھی تک تمہیں کھٹے میٹھے انگور کی پہچان ہی نہیں ہوسکی ۔حالانکہ تم یہاں سے انگور خوب کھاتے ہوگے تو وہ کہتے ہیں کہ میں نے باغ کے مالک کو جواب دیا

کہ اللہ کی قسم میں نے باغ ایک بھی انگور کا دانہ نہیں چکھا پھر مجھے کھٹے اور میٹھے انگور کی پہچان کس طرح ہوسکتی ہے ۔ مجھے تو آپ نے صرف باغ کی رکھوالی کیلئے رکھا تھا لہذا میں صرف اس باغ کی دیکھ بھال کرتا رہا اور اس باغ کا ایک بھی دانہ نہیں کھایایہ بات سن کر باغ کے مالک نے اپنے دوستوں سے کہا کہ تمہاری کیا رائے ہے تم اس بارے میں کیا کہتے ہو کیا اس سے بھی عجیب بات ہوسکتی ہے کہ ایک شخص باغ کی اتنے عرصے تک دیکھ بھال کرے اوراپنا کام اتنی ایمانداری سے کرے کہ کبھی اس نے باغ سے ایک بھی دانہ نہ کھایا ہو یہ شخص تو ابراہیم بن ادم کی طرح متقی اور برہیز گار معلوم ہوتا ہے تو آپ فرمانے لگے میں ہی ابراہیم بن ادم ہوں

تو آپ کی اس ایمانداری کے بارے میں سنتے ہی سب حیران ہوگئے۔ کہ اتنا ایماندار متقی اور پرہیز گار انسان اس باغ میں اتنی ایمانداری سے کام کررہا ہے ۔ رزق حلال ہوتو ایسا کہ اتنا عرصہ باغ میں رہنے کے باوجود بھی مالک کی اجازت کے بغیر باغ سے ایک بھی دانہ نہیں کھایا اللہ تعالیٰ سے ہماری دعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رزق حلال کمانے اور رزق حلال کھانے کی توفیق عطاء فرمائے اپنے عمل کی طرف بڑھتے ہوئے آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ دعا آپ نے صبح کے وقت پڑھنی ہےصبح جس وقت بھی آپ کی آنکھ کھلے تو آپ نے دعا شروع کردینی ہے ۔ ایک شخص آپ ﷺ کے پاس تشریف لایا اور اس نے کہا اے اللہ رسولﷺ جب میں اپنے رب سے دعا کروں تو کیا کہا

کروں تو آپ ﷺ نے فرمایا ” الھم اغفرلی ، وارحمنی، واھدنی ،وعافنی وارزقنی “ترجمہ :اے اللہ مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے اور مجھے رزق عطا ء فرما۔” آپ ﷺ نے اس شخص کو یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا جو کہ رزق میں بہت زیادہ اضافہ کردیتی بہت زیادہ برکت ڈال دیتی آپ نے کرنا یہ ہے کہ نیند سے فارغ ہوکر اُٹھیں جتنی دفعہ آسانی سے پڑھ سکیں پڑھ لیا کریں ۔ روزانہ کا معمول بنا لیں پھرآپ کے پاس کتنا مال کتنی دول کتنا رزق آنا شروع ہوجائے گا ۔آپ یقین ہی نہیں آئے گا کہ اس دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنی دولت سے نواز دے گا۔ شکری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *