بچوں کے دانتوں کو خراب ہونے سے کیسے بچایا جائے؟

دانتوں کی خرابی صرف ٹافیاں اور میٹھی گولیاں کھانے سے ہی نہیں ہوتی بلکہ مختلف قسم کے اور کھانے بھی دانتوں میں خرابی کا باعث بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ نشاستہ دار خوراک کے ساتھ ساتھ کچھ پھل، مشروبات، مونگ پھلی کا مکھن، نمکین بسکٹ اور آلو کے چپس بھی دانتوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ دانتوں کو نقصان پہنچانے میں یہ عوامل بھی شامل ہیں کہ ایسی چیزیں دن میں کتنی بار کھائی جاتی ہیں اور ان کے اجزاء کتنی دیر تک منہ میں رہتے ہیں۔

شیرخوار بچوں کے دانت کیسے خراب ہوتے ہیں؟
چھوٹے بچوں کے زیادہ تر سامنے والے دانت خراب ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے دوسرے دانت بھی خراب ہو سکتے ہیں۔ اکثر والدین یہ بات نہیں جانتے کہ ان کے بچوں کے دانت پہلی بار نکلنے کے فوراً بعد بھی خراب ہوسکتے ہیں۔ یہ خراب دانت کے اندر تک گہرائی میں پہنچ سکتی ہے جس سے دانت کی نشوونما مستقل طور پر متاثر ہوسکتی ہے۔ عام طور پر اس خراب کی وجہ بچے کا بوتل سے دودھ پینا خیال کیا جاتا ہے۔ دانتوں کی یہ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی بچہ کافی عرصے تک چینی ملا دودھ یا کوئی میٹھا مشروب پیتارہے۔ چینی ملے دودھ یا مشروب میں پائے جانے والے تیزابی اجزاء دانتوں اور مسوڑھوں کو نقصان پہنچاتے ہیں جس سے دانتوں میں انحطاط شروع ہوجاتا ہے۔

بچوں کے دانتوں کی خرابی کی وجہ کیا ہے؟
دانتوں کے ماہرین کا خیال ہے کہ جو بچے بہت زیادہ سوڈا پیتے ہیں اور ایسے مشروبات کم مقدار میں استعمال کرتے ہیں جن میں غذائیت موجود ہوتی ہے، ان میں بڑے ہونے کے بعد کچھ سنگین بیماریوں مثلاً ذیابیطس اور ہڈیوں کی بیماری آسٹیوپروسس کے ساتھ ساتھ دانتوں کے خراب ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ ملے مشروبات یعنی سوڈا وغیرہ دانتوں کی اوپر کی چمک دار تہہ کو ختم کرسکتے ہیں۔ ان مشروبات میں چپکنے والے ایسے میٹھے اجزاء ہوتے ہیں جنہیں ہمارے منہ میں موجود بیکٹریا اپنی خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ ان اجزاء کو توڑ کر تیزابی مادوں میں تبدیل کردیتے ہیں جو دانتوں کی سطح پر چپک جاتے ہیں۔

بچوں کے دانتوں کو کس طرح خراب ہونے سے بچایا جاسکتا ہے؟
بچوں کو یہ سکھایا جانا چاہیے کہ اسکول میں کچھ کھانے کے بعد وہ کلی کرکے اپنے دانتوں کو صاف کریں۔ فلورائیڈ ملا پانی استعمال کریں اور بہتریہی ہے کہ بچے صاف اور تازہ پانی پئیں۔ سوڈے کے مشروبات نلکی کے ذریعے پئیں تاکہ اس کی مٹھاس دانتوں کو نہ لگے۔ بوتلوں میں بند پھلوں کے رس میں عام طور پر چینی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے ان سے دانتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دانتوں کا باقاعدگی سے ڈاکٹری معائنہ کروانا چاہیے اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے دانتوں کو خرابی سے محفوظ رکھنے کے لیے فلورائیڈ ٹوتھ پیسٹ کا استعمال بھی فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے شیرخواربچے کے دانت نکلنے کے فوراً بعد اسے دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس معائنے کے لیے لے جائیں۔ دانتوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ہر کھانے کے بعد بچوں کے دانتوں کو برش کرائیں، انہیں باقاعدگی سے خلال کی عادت ڈالیں اور فلورائیڈ ملے ٹوتھ پیسٹ کا استعمال کرائیں۔

Check Also

پریشان مت ہوں بند ناک کھولنے کاسب سے آسان اور تیز ترین طریقہ،مزیدجانیں

 اگر ناک بند ہوجائے یا بہت زیادہ بہنے لگے تو سانس لینا بھی دشوار ہوجاتا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *