in ,

خون کی کمی چند دن میں ختم

مریض میں خون کی کمی ہے،،یہ ایک ایسا جملہ ہے جو ہم اکثر ڈاکٹروں کے منہ سے سنتے رہتے ہیں۔ خون کی کمی ہر عمر میں ہوسکتی ہے۔جسم میں خون کی کمی یا انیمیا درحقیقت جسم میں خون کے ریڈ سیلز کی کمی کو کہا جاتا ہے یہ سیلز جسم میں آکسیجن کی فراہمی کا کام کرتے ہیں۔ اگر جسم میں فولاد (آئرن) کی کمی ہو تو خون کے سرخ خلیوں کی تعداد گھٹنا شروع ہو جاتی ہے ۔ اسے عرف عام میں خون کی کمی کہا جاتا ہے ۔ خون کی کمی کی سب سے عام وجہ فولاد کی کمی ہے جس کا سائنسی نام آئرن ڈیفی شنسی انیمیا ہے ۔ اگر جسم کو مطلوبہ مقدار میں فولاد نہ ملے تو وہ مطلوبہ مقدار میں خون کے سرخ خلیوں میں پائے جانے والے عنصر ہیموگلوبن کوپیدا نہیں کرتا۔ اسی عنصر کی وجہ سے ہمارے خون کا رنگ سرخ ہوتاہے اور ہیموگلوبن ہی جسم کی بافتوں تک آکسیجن لے جاتا ہے۔ یعنی جسم کو خون کی کمی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہیموگلوبن کی سطح کو مناسب حد تک برقرار رکھا جائے ، کیونکہ اس کی کمی واقع ہوجائے تو پھیپھڑوں سے لی گئی آکسیجن جسم کے باقی حصوں تک نہیں پہنچ پاتی، جس کے باعث کام کرنے میں دشواری ، شدید تھکاوٹ، کمزوری، سینے میں درد، دل کی دھڑکن میں تیزی یا تیز سانسیں، سردرد، سر چکرانا، جلد کا پیلا ہو جانا ،ہاتھ پاؤں کا ٹھنڈا ہونااور زبان پرسوجن جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ اینیماکے شکار بچوں کو بھوک کم لگتی ہے نیز ایسی اشیا کھانے کو دل کرتا ہے جو کھانے کی نہیں ہوتیں جیسے برف یا مٹی۔خون کی کمی کی اہم ترین وجہ ناقص، غیرمتوان اور ناکافی خوراک ہے۔انیمیا سے تین سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں جن میں۔1) دل کی بیماری، 2) دوران حمل پیچیدگی، 3) نشوونما میں کمی شامل ہیںاب آپ اچھی طرح سمجھ چکے ہوں گے کہ ہیموگلوبن کی کمی سے بچنے کے لیے آئرن سے بھرپور غذاﺅں کا استعمال بہت ضروری ہے۔

انار خون کی قلت دور کرنےکا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس میں چکنائی، کاربوہائیڈریٹ، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، تانبا، آئرن، سلفر، فاسفورس اور مختلف وٹامنز خصوصاً وٹامن سی بڑی مقدار میں پایا جاتاہے۔ اتنی خصوصیات کے ساتھ ساتھ انار کو ہیموگلوبن کی سطح بڑھانے کا اہم ذریعہ کہا جاتا ہے۔ وٹامن سی کی موجودگی انسانی جسم میں آئرن کی مقدار بڑھاتی ہے۔ 100گرام انار میں صرف 83 کیلوریز ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے انسان دن بھر چست و توانارہتا ہے۔چقندر کے ان گنت فوائد سے کسی طور انکار ممکن نہیں۔اس میں فائبر،آئرن ،فولک ایسڈاور پوٹاشیم کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے، اسی لئے ماہرین چقندر کو ہیموگلوبن کی سطح بڑھانے کے لئے بہترین قرار دیتے ہیں۔ چقندر کا جوس پینا بہت فائدہ مند ہے۔یہ صحت بخش اور مفید سبزی کئی بیماریوں سے نجات دلانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے ۔ چقندر جسم میں آئرن کی کمی کو دور کرتا ہےجس سے جسم کے سرخ خلیوں کی مرمت ہوتی ہے۔صحت کے لئے مفید تربوز کا بیشترحصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ اس میں منرلز اور وٹامنز بھی پائے جاتے ہیں۔ اس قدرتی پھل میں 90فیصدپانی اور 10فیصدفو لاد، پوٹاشیم،سوڈیم ،کیلشیم،فاسفورس، نشاستہ اور روغنی اجزاء شامل ہیں ۔تربوز جسم میں پانی کی کمی دور کرنے کے ساتھ ساتھ سرخ خلیوں یا ہیموگلوبن کا لیول بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ہری بھری سبزیاں جہاں دکھنے میں آنکھوں کو تراوٹ اور تازگی بخشتی ہیں وہیں ان کا استعمال جسم میں خون کی کمی پوری کرنے کا باعث بنتاہے۔ پالک فوری خون بنانے والی سبزی ہے ۔ آپ اسے اپنی خوراک کا حصہ بنانے کے لئے سلاد میں شامل کرسکتےہیں، روزانہ ایک پلیٹ ہری سبزیوں کا سلاد کھانے سے خون کی کمی کو دور کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ پالک کا جوس بھی صحت کے لیے کافی مفید ہوتاہے۔

دالیں غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں،ان میں فائبر، وٹامن ،معدنیات، میگنیشیم اور آئرن کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ غذائیت سے بھرپور اس غذا میں موجود فائبر خون میں کولیسٹرول کا لیول کم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر خون میں کولیسٹرول کا لیول بڑھ جائے توخون کی نالیوں کی دیواروں میں چربی جمع ہوکر ان نالیوں کو بلاک کرسکتی ہے۔ اگر دل کوخون کی سپلائی بند ہوجائے تو ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔ دالوں میں موجود فائبر جسم میں نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاکر دل کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔کلیجی میں آئرن کی بھرپور مقدار پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے کلیجی جسم میں خون کی کمی کو احسن طریقے سے پورا کرتی ہے ۔اگر ہفتے میں ایک بار اس کااستعمال کیا جائے تو زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔ اسکے علاوہ کلیجی وٹامنز ،منرلز اور فیٹس(Fats) سے بھرپور ہوتی ہے۔تمام حیوانی بافتوں میں قلیل مقدار میں تانبا موجود ہوتا ہے، اسی طرح کلیجی میں تانبے کی موجودگی انسانی جسم میں میٹابولزم کو سپورٹ کرتی ہے۔ہم اپنی روزمرہ غذاسے 0.9mg تانبا حاصل کرتے ہیں اور اگرہم 13اونس کلیجی کا استعمال کرلیں تو 12mgتک تانبے کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں۔ لیکن کلیجی ہمیشہ تازہ اور صحت مند جانور کی استعمال کرنی چاہیے ۔آلوبخارہ فائبر سے بھرپور پھل ہے جو قبض کا بھی موثر علاج ثابت ہوتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس میں موجود آئرن ہیموگلوبن کی مقدار کو بڑھانے میں مددگار ہے۔چنے ناشتے میں مزیدار تو لگتے ہی ہیں، اس کے ساتھ یہ پروٹین اور آئرن سے بھرپور بھی ہوتے ہیں جو کہ ہیموگلوبن کے لیے بہترین ہے۔ انڈے بھی آئرن کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہیں۔ ایک بڑے انڈے میں تقریباًایک ملی گرام آئرن ہوتا ہے۔اسطرح ایک انڈا روزانہ کھانے سے خون کی کمی دور کرنے میں بہت مدد ملتی ہے ۔ اگر ان غذاؤں کو ہم اعتدال کے سا تھ استعمال کریں تو خون کی کمی کو چند دنوں میں ہی پورا کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ خون کی کمی کے مریضوں کواپنی صحت کاخاص خیال رکھنا چاہیے۔ صبح کی تازہ ہوا میں گہرے گہرے سانس لینے چاہییں، تاکہ پھیپڑوں کواوکسی جن مل سکے۔ لیکن اگر یہ سب کرنے کے باوجود انیمیا کی علامات میں کمی نہ ہو تو اپنے معالج سے رابطہ کریں اور بتائی گئی احتیاط اور علاج کے طریقوں پر عمل کریں۔

Written by Waqas

Leave a Reply

Your email address will not be published.

دل کے درد کی پہچان ، پانچ نشانیاں سینے میں کونسا درد ، دل کا درد ہوتا ہے

”رات کو 2 آیات پڑھ کر سو جاؤ نبی کریم ﷺ اللہ کی قسم کھا کر فرمایا“