لڑکیاں چپ کر نکاح کیلئے راضی کیوں ہوتی ہیں ؟؟؟

لڑکیاں چچپ کر نکاح کیلئے راضی کیوں ہوتی ہیں ۔۔۔۔ ؟؟؟ آخر کیوں ۔۔۔ ؟ بطور مفتی ہونے کے ناطے میرے پاس اکثر ایسی لڑکیوں کے مسئلے موصول ہوتے ہیں جو کسی لڑکے کی باتوں میں آکر چپ کر نکاح کر لیتی ہیں ۔۔۔ اور جب ان کا حچپ کر بنایا ہوا تعلق کچھ ٹائم چلنے کے بعد بری طرح ناکام ہو جاتا ہے

تو وہ اپنا درد کسی سے نہیں بیان کر پاتیں ، اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں ۔۔۔ ! ہمارے معاشرے میں چپ کر نکاح کرنے کی بیماری بڑھتی جارہی ہے ۔۔۔ اس لیے آج میں آپ سے چپ کر نکاح کرنے کے بارے میں کھل کر بات کر تاہوں تاکہ لڑکیاں غلط فیصلے لے کر اپنی زندگیاں خراب کرنے سے بچ جائیں ۔ حچپ کر نکاح کرنے والوں میں با شادی شدہ مرد اور لڑکے دونوں شامل ہیں ۔ یہاں اس بات کو سمجھنا بہت اہم ہے کہ لڑکے یا مرد حچپ کر نکاح کرتے کیوں ہیں ۔۔۔ ؟؟

: ہمارے ہاں بے شمار ” آدھی مذہبی ” یا خود کو ” سمجھدار ” سمجھنے والی لڑکیاں جب کسی لڑکے کو اپنے جسم کو ہاتھ نہیں لگانے دیتیں تو لڑکا خود کو سچا ثابت کرنے اور لڑکی کو اپنے ساتھ جسمانی تعلق کے لیے راضی کرنے کے لیے چپ کر نکاح کرنے کا پلان پیش کرتا ہے ، اور اکثر کچھ ہوس کے مارے لوگ نکاح نہیں کرتے ۔۔۔ لڑکا لڑکی کو سمجھاتا ہے کہ : ” نکاح کرنے سے ہمارا آپس میں بات چیت کرنا اور ملنا حلال ہو جاۓ گا ۔ ہم دونوں گناہ اور زنا سے بچ جائیں گے ۔ ” مذہب کے علاوہ بھی شادی شدہ مرد جب کسی لڑکی کا جسم حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے سمجھاتا ہے کہ :

” ابھی ہم چپ کر نکاح کر لیتے ، ہیں ۔ وقت آنے پر سب کو بتا دیں گے ” اور وہ وقت حقیقت میں بھی نہیں آتا ۔۔۔ اگر آبھی جاۓ تو اپنے ساتھ ذلت اور زمانے بھر میں رسوائی کہ علاوہ کچھ نہیں لاتا ۔ لڑکیاں حچپ کر نکاح کے لیے اس لیے راضی ہو جاتی ہیں کہ انھیں لگتا ہے کہ اس طرح وہ اپنی محبت یا پسند کے مرد کو حاصل کرلیں گی ۔۔۔

حالانکہ وہ اس بات سے ناواقف ہوتی ہیں کہ بیوی یا شوہر انعام کی  طرح ہوتا ہے ، جو معاشرے میں عزت کا باعث بنتا چوروں کی طرح بناۓ کسی رشتے کا معاشرتی کوئی مقام نہیں ہوتا ۔۔۔۔ دوہری زندگی گزارنا انسان کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرتا ہے ۔ میں قرآن اور حدیث کے مطالعہ سے اس نتیجے پر پہنچاہوں کہ نکاح کا مطلب اعلان ہے ۔۔۔ جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے آپ جس رشتے کا ” اعلان ” نہیں کر سکتے اسے بنانے کا کوئی بہانہ قبول نہ کریں ۔۔ اللہ رب العزت سننے سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ ۔۔۔۔ آمین ثم آمین

Check Also

ایک مشہور عارف تھے.وه اپنی سادگی کے عالم میں پرانے اور بوسیده لباس کے ساتھ ایک دن اپنے علاقے کے تندورچی کی دوکان پر گئےاور کہا

ایک مشہور عارف تھے.وه اپنی سادگی کے عالم میں پرانے اور بوسیده لباس کے ساتھ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *